Qulf-e-sad-khana-e-dil aaya jo tu toot gaye
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduقفل_صد_خانۂ_دل آیا جو تو ٹوٹ گئے جو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے
سیکڑوں کاسہ سر_دہر میں مانند_حباب کبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے
ٹانکے کیا جیب کے پھر بعد_رفو ٹوٹ گئے ہو کے ناخن کبھی سینے میں فرو ٹوٹ گئے
تو جو کہتا ہے کہ دے غیر کو بھی ساغر_مے ہاتھ کیا اس کے ہیں اے آئینہ_رو ٹوٹ گئے
کیونکے بن کشتیٔ_مے کیجیے سیر_دریا مے_کشو زیر_بغل اب تو کدو ٹوٹ گئے
دیکھ کر سرمے کی تحریر تری آنکھوں میں کافروں کے بھی ہیں زنار گلو ٹوٹ گئے
صدمۂ_غم سے ترے جوں گل_بازی افسوس سارے اعضا مرے اے عربدہ_جو ٹوٹ گئے
سنگ_غیرت سے کئی آئینے اے عہد شکن دیکھ کر صاف ترا روئے_نکو ٹوٹ گئے
تیر دل سے وہ نکلتے ہیں کوئی جذبۂ_شوق نکلے سوفار جو سینے سے گلو ٹوٹ گئے
دل شکستہ ہی رہا بعد_فنا بھی میں تو کہ مری خاک سے بنتے ہی سبو ٹوٹ گئے
شدت_گریہ سے تھا رات یہ اشکوں کا ہجوم چشم_تر پھر مرے مژگاں کے ہیں مو ٹوٹ گئے
گلشن_عشق میں اللہ ہے کیا کثرت_بار بن ہوا کتنے ہی نخل_لب_جو ٹوٹ گئے
کہہ بہ_تبدیل_قوافی غزل اک اور بھی ذوقؔ دیکھیں بٹھلائے ہے کس طرح سے تو ٹوٹ گئے