Qasd jab teri ziyarat ka kabhu karte hain
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduقصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں چشم_پر_آب سے آئینے وضو کرتے ہیں
کرتے اظہار ہیں در_پردہ عداوت اپنی وہ مرے آگے جو تعریف_عدو کرتے ہیں
دل کا یہ حال ہے پھٹ جائے ہے سو جائے سے اور اگر اک جائے سے ہم اس کو رفو کرتے ہیں
توڑیں اک نالے سے اس کاسۂ_گردوں کو مگر نوش ہم اس میں کبھو دل کا لہو کرتے ہیں
قد_دل_جو کو تمہارے نہیں دیکھا شاید سرکشی اتنی جو سرو_لب_جو کرتے ہیں