Rind-e-kharaab-haal ko zaahid na chhed tu
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduرند_خراب_حال کو زاہد نہ چھیڑ تو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ_جنوں دے_گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو
اس صید_مضطرب کو تحمل سے ذبح کر دامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو
چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار_دام_زلف تربت پہ اس کی جال کا پائے_گا پیڑ تو
اے زاہد_دو_رنگ نہ پیر آپ کو بنا مانند_صبح_کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو
یہ تنگنائے_دہر نہیں منزل_فراغ غافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو
ہو قطع نخل_الفت اگر پھر بھی سبز ہو کیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو
جو سوتی بھیڑ باعث_غوغا جگائے پھر دروازہ گھر کا اس سگ_دنیا پہ بھیڑ تو
عمر_رواں کا توسن_چالاک اس لیے تجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو
آوارگی سے کوئے_محبت کی ہاتھ اٹھا اے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے_گا کھکھیڑ تو