Sab ko duniya ki hawas khwaar liye phirti hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduسب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشید ہوس_گرمیٔ_بازار لیے پھرتی ہے
وہ مرے اختر_طالع کی ہے واژوں گردش کہ فلک کو بھی نگوں_سار لیے پھرتی ہے
کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتل کہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے
جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کو بے_قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے