Tere aafat-zada jin dashton mein ud jaate hain
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduتیرے آفت_زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں صبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں
اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کے خط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں
کیوں نہ لڑوائیں انہیں غیر کہ کرتے ہیں یہی ہم_نشیں جن کے نصیبے کہیں لڑ جاتے ہیں