Voh kaun hai jo mujh pe ta'assuf nahin karta
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduوہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا پر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا
کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کے اور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا
کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافر دم اس لیے میں سورۂ_یوسف نہیں کرتا
پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواں جب تک کہ وہ مضموں میں تصرف نہیں کرتا
دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہے دنیا کے زر_و_مال پہ میں تف نہیں کرتا
تا_صاف کرے دل نہ مئے_صاف سے صوفی کچھ سود_و_صفا علم_تصوف نہیں کرتا
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا