Waqt-e-peeri shabaab ki baatein
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduوقت_پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو دل_خانہ_خراب کی باتیں
واعظا چھوڑ ذکر_نعمت_خلد کہہ شراب_و_کباب کی باتیں
مہ_جبیں یاد ہیں کہ بھول گئے وہ شب_ماہتاب کی باتیں
حرف آیا جو آبرو پہ مری ہیں یہ چشم_پرآب کی باتیں
سنتے ہیں اس کو چھیڑ چھیڑ کے ہم کس مزے سے عتاب کی باتیں
جام_مے منہ سے تو لگا اپنے چھوڑ شرم و حجاب کی باتیں
مجھ کو رسوا کریں_گی خوب اے دل یہ تری اضطراب کی باتیں
جاؤ ہوتا ہے اور بھی خفقاں سن کے ناصح جناب کی باتیں
قصۂ_زلف_یار دل کے لیے ہیں عجب پیچ_و_تاب کی باتیں
ذکر کیا جوش_عشق میں اے ذوقؔ ہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں