Yeh iqaamat hamein paigham-e-safar deti hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduیہ اقامت ہمیں پیغام_سفر دیتی ہے زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
زال_دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ_دہر مرد_دیں_دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے
بڑھتی جاتی ہے جو مشق_ستم اس ظالم کی کچھ محبت مری اصلاح مگر دیتی ہے
فائدہ دے ترے بیمار کو کیا خاک دوا اب تو اکسیر بھی دیجے تو ضرر دیتی ہے
شمع گھبرا نہ شب_غم سے کہ کوئی دم میں تجھ کو کافور_سفیدی_سحر دیتی ہے
غنچہ ہنستا ہے ترے آگے جو گستاخی سے چٹخنا منہ پہ وہیں باد_سحر دیتی ہے
شمع بھی کم نہیں کچھ عشق میں پروانے سے جان دیتا ہے اگر وہ تو یہ سر دیتی ہے
دم_بہ_دم زخم پہ اک زخم ہے دم لینے کی مجھ کو فرصت نہیں وہ تیغ_نظر دیتی ہے
کہتے سنتے نہیں کچھ ہم تو شب_ہجر میں پر نالۂ_دل کا جواب آہ_جگر دیتی ہے
تیرہ_بختی مری کرتی ہے پریشاں مجھ کو تہمت اس زلف_سیہ_فام پہ دھر دیتی ہے
نخل_مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم_ثمر چشم پانی کی جگہ خون_جگر دیتی ہے
دیتی شربت ہے کسے زہر بھری آنکھ تری عین احسان ہے وہ زہر بھی گر دیتی ہے
کوئی غماز نہیں میری طرف سے اے ذوقؔ کان اس کے مری فریاد ہی بھر دیتی ہے