Zakhmi hoon tere naavak-e-duzdida-nazar se
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduزخمی ہوں ترے ناوک_دزدیدہ_نظر سے جانے کا نہیں چور مرے زخم_جگر سے
ہم خوب ہیں واقف ترے انداز_کمر سے یہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے
پھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سے تو جانو پھرے شیخ_جی اللہ کے گھر سے
سرمایۂ_امید ہے کیا پاس ہمارے اک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے
وہ خلق سے پیش آتے ہیں جو فیض_رساں ہیں ہیں شاخ_ثمر_دار میں گل پہلے ثمر سے
حاضر ہیں مرے جذبۂ_وحشت کے جلو میں باندھے ہوئے کہسار بھی دامن کو کمر سے
لبریز مئے_صاف سے ہوں جام_بلوریں زمزم سے ہے مطلب نہ صفا سے نہ حجر سے
اشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم سوئے_در_یار مقصود رہ_کعبہ ہے دریا کے سفر سے
فریاد_ستم_کش ہے وہ شمشیر_کشیدہ جس کا نہ رکے وار فلک کی بھی سپر سے
کھلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہ کیا جانے کہ آ جائے ہے تو اس میں کدھر سے
اف گرمیٔ_وحشت کہ مری ٹھوکروں ہی میں پتھر ہیں پہاڑوں کے اڑے جاتے شرر سے
کچھ رحمت_باری سے نہیں دور کہ ساقی روئیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے
میں کشتہ ہوں کس چشم_سیہ_مست کا یا رب ٹپکے ہے جو مستی مری تربت کے شجر سے
نالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتا کیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے
اے ذوقؔ کسی ہمدم_دیرینہ کا ملنا بہتر ہے ملاقات_مسیحا_و_خضر سے