baadam do jo bheje hain batwe mein daal kar
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduبادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر ایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر
دل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ_بھال کر اے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر
اترے_گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سے خاک_دل_شکستہ نہ صرف_کلال کر
لے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھ دل کیا کنارے ہو گیا سب کو سنبھال کر
تصویر ان کی حضرت_دل کھینچ لیجے گر رکھ دیں_گے ہم بھی پاؤں پہ آنکھیں نکال کر
قاتل ہے کس مزے سے نمک_پاش_زخم_دل بسمل ذرا تڑپ کے نمک تو حلال کر
دل کو رفیق عشق میں اپنا سمجھ نہ ذوقؔ ٹل جائے_گا یہ اپنی بلا تجھ پہ ٹال کر