dil bache kyuunkar buton ki chashm-e-shokh-o-shang se
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduدل بچے کیونکر بتوں کی چشم_شوخ_و_شنگ سے اپنا گھر تو سوجھتا ہے سیکڑوں فرسنگ سے
ایک بھی نکلے نہ میری سی فغان_دل_خراش گرچہ خوں ٹپکے گلوئے_مرغ_خوش_آہنگ سے
چھپ کے بیٹھے_گا کہاں تو ہم سے اے رنگیں_نوا ہوگا تو جس رنگ میں مل جائیں_گے اس رنگ سے
بل بے_باریکی کہ گویا ہر ترا تار_سخن جنتری میں کھنچ کے نکلا ہے دہان_تنگ سے
اے تغافل_کیش جلدی آ کہ تو واقف نہیں اس دل_بیتاب و جان_مضطرب کے ڈھنگ سے
جوش_گریہ سے رہی برسات برسوں پر کبھی اس کی تیغ_تیز آلودہ نہ دیکھی زنگ سے
میرے گریے کے اثر سے ہو گئے پتھر بھی آب جھڑتے ہیں جائے_شرر پانی کے قطرے سنگ سے
پہلے یہ نیت وضو کی ہے نماز_عشق میں دل سے کہہ دیجے کہ دھووے ہاتھ نام و ننگ سے
ذوقؔ زیبا ہے جو ہو ریش_سفید_شیخ پر وسمہ آب_بنگ سے مہندی مئے_گل_رنگ سے