gayin yaaron se woh agli mulaqaton ki sab rasmein
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduگئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیں پڑا جس دن سے دل بس میں ترے اور دل کے ہم بس میں
کبھی ملنا کبھی رہنا الگ مانند مژگاں کے تماشہ کج_سرشتوں کا ہے کچھ اخلاص کے بس میں
توقع کیا ہو جینے کی ترے بیمار_ہجراں کے نہ جنبش نبض میں جس کی نہ گرمی جس کے ملمس میں
دکھائے چیرہ_دستی آہ بالادست گر اپنی تو مارے ہاتھ دامان_قیامت چرخ_اطلس میں
جو ہے گوشہ_نشیں تیرے خیال_مست_ابرو میں وہ ہے بیت_الصنم میں بھی تو ہے بیت_المقدس میں
کرے لب_آشنا حرف_شکایت سے کہاں یہ دم ترے محزون_بے_دم میں ترے مفتون_بیکس میں
ہوائے_کوے_جاناں لے اڑے اس کو تعجب کیا تن_لاغر میں ہے جاں اس طرح جس طرح بو خس میں
مجھے ہو کس طرح قول_و_قسم کا اعتبار ان کے ہزاروں دے چکے وہ قول لاکھوں کھا چکے قسمیں
ہوئے سب جمع مضموں ذوقؔ دیوان_دو_عالم کے حواس_خمسہ ہیں انساں کے وہ بند_مخمس میں