hungaama garm hasti-e-na-paaidaar ka
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduہنگامہ گرم ہستئ_نا_پائیدار کا چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا
میں جو شہید ہوں لب_خندان_یار کا کیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا
ہو راز_دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا پردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا
اس روئے_تابناک پہ ہر قطرۂ_عرق گویا کہ اک ستارہ ہے صبح_بہار کا
ہے عین_وصل میں بھی مری چشم سوئے_در لپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا
پہنچے_گا تیرے پاس کبوتر سے پیشتر مکتوب_شوق اڑا کے ترے بے_قرار کا
ہو پاک_دامنوں کو خلش گر سے کیا خطر کھٹکا نہیں نگاہ کو مژگاں کے خار کا
بجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر_خاک بھی ہوگا درخت گور پہ میری چنار کا
دیکھ اپنے در_گوش کو عارض سے متصل دیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح_بہار کا
پوچھے ہے کیا حلاوت_تلخابۂ_سرشک شربت ہے باغ_خلد_بریں کے انار کا
ہے دل کی داؤ گھات میں مژگاں سے چشم_یار ہے شوق اس کی ٹٹی کی اوجھل شکار کا
قاصد لکھوں لفافۂ_خط کو غبار سے تا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا
اے ذوقؔ ہوش گر ہے تو دنیا سے دور بھاگ اس مے_کدے میں کام نہیں ہوشیار کا