iss sang-e-aastaan peh jabeen-e-niyaaz hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduاس سنگ_آستاں پہ جبین_نیاز ہے وہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے
ناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہے کیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے
پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیب سچ ہے حرام_زادے کی رسی دراز ہے
اس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشک ہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے
مداح_خال_روئے_بتاں ہوں مجھے خدا بخشے تو کیا عجب کہ وہ نکتہ_نواز ہے
ڈرتا ہوں خنجر اس کا نہ بہہ جائے ہو کے آب میرے گلے میں نالۂ_آہن_گداز ہے
دروازہ مے_کدے کا نہ کر بند محتسب ظالم خدا سے ڈر کہ در_توبہ باز ہے
خانہ_خرابیاں دل_بیمار_غم کی دیکھ وہ ہی دوا خراب ہے جو خانہ_ساز ہے
شبنم کی جائے_گل سے ٹپکتی ہیں شوخیاں گلشن میں کس کی خاک_شہیدان_ناز ہے
آہ و فغاں نہ کر جو کھلے ذوقؔ دل کا حال ہر نالہ اک کلید_در_گنج_راز ہے