kahan talak kahoon saqi ke laa sharaab to de
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے نہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے
بجھے_گا سوز_دل اے گریہ پل میں آب تو دے دگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے
گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے کہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے
ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں_گے سیراب خدا کے واسطے تیغ_ستم کو آب تو دے
تمہارے مطلع_ابرو پہ یہ کہے ہے خال کہ ایسا نقطہ کوئی وقت_انتخاب تو دے
در_قبول ہے درباں نہ بند کر در_یار دعائے_خیر مری ہونے مستجاب تو دے
کھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ_نرگس ذرا دکھا تو اسے چشم_نیم_خواب تو دے
بلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کا تسلی آ کے مجھے وقت_اضطراب تو دے
ہوا بگولے میں ہے کشتگان_زلف کی خاک کہ بعد_مرگ بھی معلوم پیچ_و_تاب تو دے
بلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز_جگر بجھا پر ان کی ذرا آتش_عتاب تو دے
شہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدی ٹھہرنے مجھ کو تہ_تیغ_اضطراب تو دے
شکار_بستۂ_فتراک کو ترے مقدور ہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر_رکاب تو دے
دل_برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے_خوارو جو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے
نشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرے جو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے
جواب_نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ_یار جو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے
رکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل_ہمت کا نہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ_حباب تو دے
کہاں بجھی ہے تہ_خاک میری آتش_دل کہو ہوا سے ہلا دامن_سحاب تو دے
خنک دلوں کی اگر آہ_سرد دوزخ میں پڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے
کرے_گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سے نگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ_تاب تو دے
پہنچ رہوں_گا سر_منزل_فنا اے ذوقؔ مثال_نقش_قدم کرنے پا_تراب تو دے