koi in tang-dahanon se mohabbat na kare
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکوئی ان تنگ_دہانوں سے محبت نہ کرے اور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے
عشق کے داغ کو دل مہر_نبوت سمجھا ڈر ہے کافر کہیں دعوائے_نبوت نہ کرے
ہے جراحت کا مری سودۂ_الماس علاج فائدہ اس کو کبھی سنگ_جراحت نہ کرے
ہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریا کیا کرے جادہ اگر ترک_رفاقت نہ کرے
آج تک خوں سے مرے تر ہے زبان_خنجر کیا کرے جب کہ طلب کوئی شہادت نہ کرے
ہے یہ انساں بڑے استاد کا شاگرد_رشید کر سکے کون اگر یہ بھی خلافت نہ کرے
بن جلے شمع کے پروانہ نہیں جل سکتا کیا بڑھے عشق اگر حسن ہی سبقت نہ کرے
پھر چلا مقتل_عشاق کی جانب قاتل سر پہ برپا کہیں کشتوں کے قیامت نہ کرے