kya gharaz laakh khudaai mein hon daulat waale
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے ان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے
چاہیں گر چارہ جراحت کا محبت والے بیچیں الماس و نمک سنگ_جراحت والے
گئے جنت میں اگر سوز_محبت والے تو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے
ساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والے صبح_محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے متوالے
دختر_رز کو نہیں چھیڑتے ہیں متوالے حذر اس فاحشہ سے کرتے ہیں حرمت والے
رہے جوں شیشۂ_ساعت وہ مکدر دونوں کبھی مل بھی گئے دو دل جو کدورت والے
کس مرض کی ہیں دوا یہ لب_جاں_بخش ترے جاں_بہ_لب ہیں ترے آزار_محبت والے
حرص کے پھیلتے ہیں پاؤں بہ_قدر_وسعت تنگ ہی رہتے ہیں دنیا میں فراغت والے
ہائے رے حسرت_دیدار مری ہائے کو بھی لکھتے ہیں ھائے_دو_چشمی سے کتابت والے
نہیں جز شمع مجاور مری بالین_مزار نہیں جز کثرت_پروانہ زیارت والے
نہ شکایت ہے کرم کی نہ ستم کی خواہش دیکھ تو ہم بھی ہیں کیا صبر و قناعت والے
کیا تماشا ہے کہ مثل_مہ_نو اپنا فروغ جانتے اپنی حقارت کو ہیں شہرت والے
دل سے کچھ کہتا ہوں میں مجھ سے ہے کچھ کہتا دل دونوں اک حال میں ہیں رنج و مصیبت والے
تو گر آ جائے تو اے درد_محبت کی دوا مرے ہمدرد ہوں بے_درد فضیحت والے
چھوڑ دیتے ہیں قلم جوں قلم_آتش_باز مری شرح_طپش_دل کی کتابت والے
کبھی افسوس ہے آتا کبھی رونا آتا دل_بیمار کے ہیں دو ہی عیادت والے
تو مرے حال سے غافل ہے پر اے غفلت_کیش تیرے انداز_تغافل نہیں غفلت والے
ہم نے دیکھا ہے جو اس بت میں نہیں کہہ سکتے کہ مبادا کہیں سن پائیں شریعت والے
ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ اس نے دیکھے ہی نہیں ناز_و_نزاکت والے