Kya aaye tum jo aaye ghadi do ghadi ke baad
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد سینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد
کیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئی پھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کوئی گھڑی اگر وہ ملایم ہوئے تو کیا کہہ بیٹھیں_گے پھر ایک کڑی دو گھڑی کے بعد
اس لعل_لب کے ہم نے لیے بوسے اس قدر سب اڑ گئی مسی کی دھڑی دو گھڑی کے بعد
اللہ رے ضعف_سینہ سے ہر آہ_بے_اثر لب تک جو پہنچی بھی تو چڑھی دو گھڑی کے بعد
کل اس سے ہم نے ترک_ملاقات کی تو کیا پھر اس بغیر کل نہ پڑی دو گھڑی کے بعد
تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے ساری وہ شیخی ان کی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کہتا رہا کچھ اس سے عدو دو گھڑی تلک غماز نے پھر اور جڑی دو گھڑی کے بعد
پروانہ گرد شمع کے شب دو گھڑی رہا پھر دیکھی اس کی خاک پڑی دو گھڑی کے بعد
تو دو گھڑی کا وعدہ نہ کر دیکھ جلد آ آنے میں ہوگی دیر بڑی دو گھڑی کے بعد
گو دو گھڑی تک اس نے نہ دیکھا ادھر تو کیا آخر ہمیں سے آنکھ لڑی دو گھڑی کے بعد
کیا جانے دو گھڑی وہ رہے ذوقؔ کس طرح پھر تو نہ ٹھہرے پاؤں گھڑی دو گھڑی کے بعد