Koi kamar ko tiri kuch jo ho kamar to kahe
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہے کہ آدمی جو کہے بات سوچ کر تو کہے
مری حقیقت_پر_درد کو کبھی اس سے بہ_آہ_و_نالہ نہ کہوے بہ_چشم_تر تو کہے
یہ آرزو ہے جہنم کو بھی کہ آتش_عشق مجھے نہ شعلہ گر اپنا کہے شرر تو کہے
بقدر_مایہ نہیں گر ہر اک کا رتبہ و نام تو ہاں حباب کو دیکھیں کوئی گہر تو کہے
کہے جو کچھ مجھے ناصح نہیں وہ دیوانہ کہ جانتا ہے کہے کا ہو کچھ اثر تو کہے
جل اٹھے شمع کے مانند قصہ_خواں کی زباں ہمارا قصۂ_پرسوز لحظہ بھر تو کہے
صدا ہے خوں میں بھی منصور کے انا_الحق کی کہے اگر کوئی توحید اس قدر تو کہے
مجال ہے کہ ترے آگے فتنہ دم مارے کہے_گا اور تو کیا پہلے الحذر تو کہے
بنے بلا سے مرا مرغ_نامہ_بر بھنورا کہ اس کو دیکھ کے وہ منہ سے خوش_خبر تو کہے
ہر ایک شعر میں مضمون_گریہ ہے میرے مری طرح سے کوئی ذوقؔ شعر_تر تو کہے