Laayi hayaat aaye qaza le chali chale
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduلائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
ہو عمر_خضر بھی تو ہو معلوم وقت_مرگ ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے
ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں_گے بد_قمار جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے پر کیا کریں جو کام نہ بے_دل_لگی چلے
لیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر_عشق سے سن کر فغان_قیس بجائے_حدی چلے
نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہی دانش تری نہ کچھ مری دانش_وری چلے
دنیا نے کس کا راہ_فنا میں دیا ہے ساتھ تم بھی چلے چلو یوں_ہی جب تک چلی چلے
جاتے ہوائے_شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ اپنی بلا سے باد_صبا اب کبھی چلے