Lete hi dil jo aashiq-e-dil-soz ka chale
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduلیتے ہی دل جو عاشق_دل_سوز کا چلے تم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے
تم چشم_سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلے بیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے
دیوانہ آ کے اور بھی دل کو بنا چلے اک دم تو ٹھہرو اور بھی کیا آئے کیا چلے
ہم لطف_سیر_باغ_جہاں خاک اڑا چلے شوق_وصال دل میں لیے یار کا چلے
غیروں کے ساتھ چھوڑ کے تم نقش_پا چلے کیا خوب پھول گور پہ میری چڑھا چلے
دکھلا کے مجھ کو نرگس_بیمار کیا چلے آوارہ مثل_آہوئے_صحرا بنا چلے
اے غم مجھے تمام شب_ہجر میں نہ کھا رہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے
بل_بے غرور_حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤں مانند_آفتاب وہ بے_نقش_پا چلے
کیا لے چلے گلی سے تری ہم کو جوں نسیم آئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے
افسوس ہے کہ سایہ_مرغ_ہوا کی طرح ہم جس کے ساتھ ساتھ چلیں وہ جدا چلے
کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب یاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے
قاتل جو تیرے دل میں رکاوٹ نہ ہو تو کیوں رک رک کے میرے حلق پہ خنجر ترا چلے
لے جائیں تیرے کشتے کو جنت میں بھی اگر پھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے
آلودہ چشم میں نہ ہوئی سرمے سے نگاہ دیکھا جہاں سے صاف ہی اہل_صفا چلے
روز_ازل سے زلف_معنبر کا ہے اسیر کیا اڑ کے تجھ سے طائر_نکہت بھلا چلے
ساتھ اپنے لے کے توسن_عمر_رواں کو آہ ہم اس سرائے_دہر میں کیا آئے کیا چلے
سلجھائیں زلفیں کیا لب_دریا پہ آپ نے ہر موج مثل_مارسیہ تم بنا چلے
دنیا میں جب سے آئے رہا عشق_گل_رخاں ہم اس جہاں میں مثل_صبا خاک اڑا چلے
قاتل سے دخل کیا ہے کہ جاں_بر ہو اپنا ہوش گر اڑ کے مثل_طائر رنگ_حنا چلے
فکر_قناعت ان کو میسر ہوئی کہاں دنیا سے دل میں لے کے جو حرص_و_ہوا چلے
اس روئے_آتشیں کے تصور میں یاد_زلف یعنی غضب ہے آگ لگے اور ہوا چلے
اے ذوقؔ ہے غضب نگہ_یار الحفیظ وہ کیا بچے کہ جس پہ یہ تیر_قضا چلے