Kal gaye the tum jise bimaar-e-hijraan chhod kar
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکل گئے تھے تم جسے بیمار_ہجراں چھوڑ کر چل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر
طفل_اشک ایسا گرا دامان_مژگاں چھوڑ کر پھر نہ اٹھا کوچۂ_چاک_گریباں چھوڑ کر
کیونکہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کر جائے بیضے کو کہاں یہ مرغ_پراں چھوڑ کر
جس نے ہو لذت اٹھائی زخم تیغ_عشق کی کب وہ مرہم_دان کو ڈھونڈے نمک_داں چھوڑ کر
صید_دل کو کیونکہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تو مچھلیاں دست_حنائی میں مری جاں چھوڑ کر
سرد_مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہے یاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر_خراماں چھوڑ کر
دیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑی دل کو اے کافر تری زلف_پریشاں چھوڑ کر
اے دل اس کے تیر کے ہم_راہ سینے سے نکل ورنہ پچھتائے_گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر
کیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترے شیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر
سرخی_پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترے اٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیح_مرجاں چھوڑ کر
پیش_خیمہ لے کے نکلا گرد_باد_دور_رو ہے جو سرگرم_سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر
گر خدا دیوے قناعت ماہ_دوہفتہ کی طرح دوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر
ساغر_دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سے چوکتا ہے کیوں یہ جنس_دست_گرداں چھوڑ کر
کام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابر_کرم ورنہ جائے داغ_عصیاں میرا داماں چھوڑ کر
پڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جا جانب_مضمون طرز_تفتہ_جاناں چھوڑ کر