Kab haq-parast zahid-e-jannat-parast hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduکب حق_پرست زاہد_جنت_پرست ہے حوروں پہ مر رہا ہے یہ شہوت_پرست ہے
دل صاف ہو تو چاہیئے معنی_پرست ہو آئینہ خاک صاف ہے صورت_پرست ہے
درویش ہے وہی جو ریاضت میں چست ہو تارک نہیں فقیر بھی راحت_پرست ہے
جز زلف سوجھتا نہیں اے مرغ_دل تجھے خفاش تو نہیں ہے کہ ظلمت_پرست ہے
دولت کی رکھ نہ مار_سر_گنج سے امید موذی وہ دے_گا کیا کہ جو دولت_پرست ہے
عنقا نے گم کیا ہے نشاں نام کے لیے گم_گشتہ کون کہتا ہے شہرت_پرست ہے
یہ ذوقؔ مے_پرست ہے یا ہے صنم_پرست کچھ ہے بلا سے لیک محبت_پرست ہے