Juda hoon yaar se hum aur na ho raqeeb juda
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduجدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا
دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت_کافر تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا
جدا نہ درد_جدائی ہو گر مرے اعضا حروف_درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا
ہے اور علم و ادب مکتب_محبت میں کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا
ہجوم_اشک کے ہم_راہ کیوں نہ ہو نالہ کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا
فراق_خلد سے گندم ہے سینہ_چاک اب تک الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا
کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر نہ کر سکا مرے دل سے غم_حبیب جدا
کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن_قریب جدا