Jo kuch ke hai duniya mein woh insaan ke liye hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduجو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے آراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے
زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کام دل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے
ہو قید_تفکر سے کب آزاد سخن_ور منظور قفس مرغ_خوش_الحاں کے لیے ہے
اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمن ہر نے میں بھری آگ نیستاں کے لیے ہے
کچھ بخت سے میرے جو سوا ہے وہ سیاہی باقی ہے تو میری شب_ہجراں کے لیے ہے
دیوانہ ہوں میں بھی وہ تماشا کہ مرا ذکر گویا سبق اطفال_دبستاں کے لیے ہے
ہے بادہ_کشوں کے لیے اک غیب سے تائید زاہد جو دعا مانگتا باراں کے لیے ہے
چنگل میں ہے موذی کے دل اس چشم کے ہاتھوں گھیرا یہ غضب پنجۂ_مژگاں کے لیے ہے
میں کس کی نگاہوں کا ہوں وحشی کہ مری خاک اک کحل_بصر چشم_غزالاں کے لیے ہے
دل بھی ہے بلا قابل_مشق_ستم_و_ناز جو تیر ہے اس تودۂ_طوفاں کے لیے ہے
نکلے کوئی کیا قید_علائق سے کہ اے ذوقؔ در ہی نہیں اس خانۂ_زنداں کے لیے ہے