Jab chala woh mujh ko bismil khoon mein ghaltaan chhod kar
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduجب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر
میں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج_زنداں چھوڑ کر سیب_جنت تک نہ کھاؤں سنگ_طفلاں چھوڑ کر
پیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کے کھینچے تو شنگرف سے خون_شہیداں چھوڑ کر
میں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرا رہ گیا بس منشی_قدرت جگہ واں چھوڑ کر
سایۂ_سرو_چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھے سانپ سا پانی میں اے سرو_خراماں چھوڑ کر
ہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر_عشق بھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق_میزاں چھوڑ کر
اہل_جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلک لعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر
شوق ہے اس کو بھی طرز_نالۂ_عشاق سے دم_بدم چھیڑے ہے منہ سے دود_قلیاں چھوڑ کر
دل تو لگتے ہی لگے گا حوریان_عدن سے باغ_ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر
گھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطے بیٹھے ہیں گھر_بار ہم سب خانہ_ویراں چھوڑ کر
وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت_ماہ_رجب روئے_جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر_سخن کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر