Huye kyun us pe aashiq hum abhi se
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے
دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے جتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے
ترے بیمار_غم کے ہیں جو غم_خوار برستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے
غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں صف_عشاق ہے برہم ابھی سے
اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے نہیں پر اپنے دم میں دم ابھی سے
بھگو رہوے_گا گریہ جیب و دامن رہے ہے آستیں پر_نم ابھی سے
تمہارا مجھ کو پاس_آبرو تھا وگرنہ اشک جاتے تھم ابھی سے
لگے سیسہ پلانے مجھ کو آنسو کہ ہو بنیاد_غم محکم ابھی سے
کہا جانے کو کس نے مینہ کھلے پر کہ چھایا دل پہ ابر_غم ابھی سے
نکلتے ہی دم اٹھواتے ہیں مجھ کو ہوئے بے_زار یوں ہمدم ابھی سے
ابھی دل پر جراحت سو نہ دو سو دھرا ہے دوستو مرہم ابھی سے
کیا ہے وعدۂ_دیدار کس نے کہ ہے مشتاق اک عالم ابھی سے
مرا جانا مجھے غیروں نے اے ذوقؔ کہ پھرتے ہیں خوش_و_خرم ابھی سے