Hum hain aur shughl-e-ishq-baazi hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduہم ہیں اور شغل_عشق_بازی ہے کیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے
دختر_رز نکل کے مینا سے کرتی کیا کیا زباں_درازی ہے
خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میں حسن کی یہ ادا_طرازی ہے
ہندوئے_چشم طاق_ابرو میں کیا بنا آن کر نمازی ہے
نذر دیں نفس_کش کو دنیا_دار واہ کیا تیری بے_نیازی ہے
بت_طناز ہم سے ہو ناساز کارسازوں کی کارسازی ہے
سچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔ مال_موذی نصیب_غازی ہے