Khat barha kaakul barhe zulfen barhein gesu barhe
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduخط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے
بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے جی اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے
بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی وحشت وگرنہ پہلے تو ہاتھ کے ناخن بڑھے سر کے ہمارے مو بڑھے
تجھ کو دشمن واں شرارت سے جو بھڑکاتے ہے روز چاہتے ہیں اور شر اے شوخ_آتش_خو بڑھے
کچھ تپ_غم کو گھٹا کیا فائدہ اس سے طبیب روز نسخے میں اگر خرفہ گھٹے کاہو بڑھے
پیشوائی کو غم_جاناں کی چشم_دل سے ذوقؔ جب بڑھے نالہ تو اس سے بیشتر آنسو بڑھے