Khoob roka shikayaton se mujhe
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduخوب روکا شکایتوں سے مجھے تو نے مارا عنایتوں سے مجھے
واجب_القتل اس نے ٹھہرایا آیتوں سے روایتوں سے مجھے
کہتے کیا کیا ہیں دیکھ تو اغیار یار تیری حمایتوں سے مجھے
کیا غضب ہے کہ دوست تو سمجھے دشمنوں کی رعایتوں سے مجھے
دم_گریہ کمی نہ کر اے چشم شوق کم ہے کفایتوں سے مجھے
کمیٔ_گریہ نے جلا مارا ہوا نقصاں کفایتوں سے مجھے
لے گئی عشق کی ہدایت ذوقؔ ان کنے سب نہایتوں سے مجھے