Gauhar ko jauhari sarraf zar ko dekhte hain
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduگہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں بشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں
نہ خوب و زشت نہ عیب_و_ہنر کو دیکھتے ہیں یہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں
وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیں محبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں
وہ اپنی برش_تیغ_نظر کو دیکھتے ہیں ہم ان کو دیکھتے ہیں اور جگر کو دیکھتے ہیں
جب اپنے گریہ و سوز_جگر کو دیکھتے ہیں سلگتی آگ میں ہم خشک_و_تر کو دیکھتے ہیں
رفیق جب مرے زخم_جگر کو دیکھتے ہیں تو چارہ_گر انہیں وہ چارہ_گر کو دیکھتے ہیں
نہ طمطراق کو نے کر_و_فر کو دیکھتے ہیں ہم آدمی کے صفات و سیر کو دیکھتے ہیں
جو رات خواب میں اس فتنہ_گر کو دیکھتے ہیں نہ پوچھ ہم جو قیامت سحر کو دیکھتے ہیں
وہ روز ہم کو گزرتا ہے جیسے عید کا دن کبھی جو شکل تمہاری سحر کو دیکھتے ہیں
جہاں کے آئنوں سے دل کا آئنہ ہے جدا اس آئنے میں ہم آئینہ_گر کو دیکھتے ہیں
بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ_گر ہنر_ور اپنے ہی عیب_و_ہنر کو دیکھتے ہیں