Ek sadma dard-e-dil se meri jaan par toh hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduاک صدمہ درد_دل سے مری جان پر تو ہے لیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے
آنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیے کب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے
ہے سر شہید_عشق کا زیب_سنان_یار صد شکر بارے نخل_وفا بارور تو ہے
مانند_شمع گریہ ہے کیا شغل_طرفہ_تر ہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے
ہے درد دل میں گر نہیں ہمدرد میرے پاس دل_سوز کوئی گر نہیں سوز_جگر تو ہے
اے دل ہجوم_درد_و_الم سے نہ تنگ ہو خانہ_خراب خوش ہو کہ آباد گھر تو ہے
تربت پہ دل_جلوں کی نہیں گر چراغ و گل سینے میں سوزش_دل و داغ_جگر تو ہے
غائب میں جو کہا سو کہا پھر بھی ہے یہ شکر خاموش ہو گیا وہ مجھے دیکھ کر تو ہے
کشتی_بحر_غم ہے مرے حق میں تیغ_یار کر دیتی ایک دم میں ادھر سے ادھر تو ہے
وہ دل کہ جس میں سوز_محبت نہ ہووے ذوقؔ بہتر ہے سنگ اس سے کہ اس میں شرر تو ہے