Dood-e-dil se hai yeh taareeki mere gham-khaane mein
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduدود_دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم_خانہ میں شمع ہے اک سوزن_گم_گشتہ اس کاشانہ میں
میں ہوں وہ خشت_کہن مدت سے اس ویرانے میں برسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے_خانہ میں
میں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شراب جوش_کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں
برق_خرمن_سوز دانائی ہے نافہمی تری ورنہ کیا کیا لہلہاتے کھیت ہیں ہر دانہ میں
کس نزاکت سے ہے دیکھو اتحاد_حسن_و_عشق زلف واں شانے نے کھینچی درد ہے یاں شانہ میں
وحشت و ناآشنائی مستی و بیگانگی یا تری آنکھوں میں دیکھی یا ترے دیوانہ میں
عشق کو نشوونما منظور ہے کب ورنہ سبز تخم_اشک_شمع ہو خاکستر_پروانہ میں
ہوش کا دعویٰ ہے بے_ہوشوں کو زیر_آسماں خم_نشیں مثل_فلاطوں سب ہیں اس خم_خانہ میں
پتھروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے ناحق سیل_آب پوچھو کیا لے جائے_گا آ کر مرے غم_خانہ میں
ایک پتھر پوجنے کو شیخ_جی کعبے گئے ذوقؔ ہر بت قابل_بوسہ ہے اس بت_خانہ میں