Comma for either/or — dharma, courage. Spelling forgiving — corage finds courage.

    Cover for Diwan-E-Zauq

    Diwan-E-Zauq

    Dikhla na khaal-e-naaf tu ae gul-badan mujhe

    Sheikh Ibrahim Zauq

    دکھلا نہ خال_ناف تو اے گل_بدن مجھے ہر لالہ یاں ہے نافۂ_مشک_ختن مجھے

    ہمدم وبال_دوش نہ کر پیرہن مجھے کانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے

    پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ_پن مجھے زنجیر_پا ہے موج_نسیم_چمن مجھے

    تسبیح_دور_بزم میں دیکھو امام کو بخشی ہے حق نے زیب_سر_انجمن مجھے

    اے میرے یاسمن ترے دندان_آبدار گلشن میں ہیں رلاتے گل_یاسمن مجھے

    محراب_کعبہ جب سے ہے تیرا خم_کماں صید_حرم سمجھتے ہیں ناوک_فگن مجھے

    ہے تن میں ریشہ_ہائے_نئے خشک استخواں کیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف_تن مجھے

    اے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم_بہا یاقوت دے یا دے کوئی لعل_یمن مجھے

    ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر فانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے

    اک سرزمین_لالہ بہار و خزاں میں ہوں یکساں ہے داغ_تازہ و داغ_کہن مجھے

    خسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوں شیریں نہ ہووے خون_سر_کوہ_کن مجھے

    رخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نے آتا نظر ہے دیدۂ_عنقا_دہن مجھے

    یہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاک اک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے

    کوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر شب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے

    دکھلاتا آسماں سے ہے روئے_زمیں کی سیر اے رشک_ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے

    رکھتا ہے چشم_لطف پہ کس کس ادا کے ساتھ دیتا ہے جام ساقی_پیماں_شکن مجھے

    ہے جذب_دل درست تو چاہ_فراق سے کھینچے_گی تیری زلف شکن_در_شکن مجھے

    دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ اس سادہ_پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے

    جیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہا دل سوجھتا ہے یوں تہ_چاہ_ذقن مجھے

    آ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھا آنکھیں دکھا رہا ہے غرال_ختن مجھے

    آ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہوا صحرائے_دل ہوا ہے چمن_در_چمن مجھے

    یا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینہ_نظر دکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے

    آیا ہوں نور لے کے میں بزم_سخن میں ذوقؔ آنکھوں پہ سب بٹھائیں_گے اہل_سخن مجھے