Darya-e-ashk chashm se jis aan beh gaya
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduدریائے_اشک چشم سے جس آن بہہ گیا سن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا
بل_بے_گداز_عشق کہ خوں ہو کے دل کے ساتھ سینے سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
ہے موج_بحر_عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ بیچارہ مشت_خاک تھا انسان بہہ گیا
دریائے_اشک سے دم_تحریر حال_دل کشتی کی طرح میرا قلم_دان بہہ گیا
یہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پانی کے آبلے نالہ سا ایک سوئے_بیابان بہہ گیا
تھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنے سب مول تیرا لعل_بدخشان بہہ گیا
کشتی سوار_عمر ہوں بحر_فنا میں ذوقؔ جس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا
تھا ذوقؔ پہلے دہلی میں پنجاب کا سا حسن پر اب وہ پانی کہتے ہیں ملتان بہہ گیا