Haath seena pe mere rakh ke kidhar dekhte ho
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو اک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو
ہے دم_باز_پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو آئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال ہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو
پر_پروانہ پڑے ہیں شجر_شمع کے گرد برگ_ریزی_محبت کا ثمر دیکھتے ہو
بید_مجنوں کو ہو جب دیکھتے اے اہل_نظر کسی مجنوں کو بھی آشفتہ_بسر دیکھتے ہو
شوق_دیدار مری نعش پہ آ کر بولا کس کی ہو دیکھتے راہ اور کدھر دیکھتے ہو
لذت_ناوک_غم ذوقؔ سے ہو پوچھتے کیا لب پڑے چاٹتے ہیں زخم_جگر دیکھتے ہو