Ab toh ghabra ke yeh kehte hain ke mar jaayenge
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduاب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں_گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں_گے
خالی اے چارہ_گرو ہوں_گے بہت مرہم_داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں_گے
پہنچیں_گے رہ_گزر_یار تلک کیوں کر ہم پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں_گے
شعلۂ_آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں پر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں_گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر بلکہ پوچھے_گا خدا بھی تو مکر جائیں_گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے_گی پانی پانی جب یہ عاصی عرق_شرم سے تر جائیں_گے
نہیں پائے_گا نشاں کوئی ہمارا ہرگز ہم جہاں سے روش_تیر_نظر جائیں_گے
سامنے چشم_گہر_بار کے کہہ دو دریا چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں_گے
لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں_گے
رخ_روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم مہر_و_مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں_گے
ہم بھی دیکھیں_گے کوئی اہل_نظر ہے کہ نہیں یاں سے جب ہم روش_تیر_نظر جائیں_گے
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ان کو مے_خانے میں لے آؤ سنور جائیں_گے