Aate hi tu ne ghar ke phir jaane ki sunai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduآتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی رہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی
مجنوں و کوہ_کن کے سنتے تھے یار قصے جب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی
شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سے شکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی
کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے_گا دیتا نہیں مجھے تو اے بے_خودی سنائی
کہنے نہ پائے اس سے ساری حقیقت اک دن آدھی کبھی سنائی آدھی کبھی سنائی
صورت دکھائے اپنی دیکھیں وہ کس طرح سے آواز بھی نہ ہم کو جس نے کبھی سنائی
قیمت میں جنس_دل کی مانگا جو ذوقؔ بوسہ کیا کیا نہ اس نے ہم کو کھوٹی_کھری سنائی