Aankhein meri talwon se woh mal jaaye to achha
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduآنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا ہے حسرت_پابوس نکل جائے تو اچھا
جو چشم کہ بے_نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل کہ ہو بے_داغ وہ جل جائے تو اچھا
بیمار_محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا
ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا
کھینچے دل_انساں کو نہ وہ زلف_سیہ_فام اژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا
تاثیر_محبت عجب اک حب کا عمل ہے لیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا
دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھر یہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا
فرقت میں تری تار_نفس سینے میں میرے کانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا
اے گریہ نہ رکھ میرے تن_خشک کو غرقاب لکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا
ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر_نخل_محبت یہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا
وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہر اور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا
ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شام اور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا
جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سے گر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا
القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سے دل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا
ہے قطع رہ_عشق میں اے ذوقؔ ادب شرط جوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا