Aankh us pur-jafa se ladti hai
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduآنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے جان کشتی قضا سے لڑتی ہے
شعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میں شمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے
قسمت اس بت سے جا لڑی اپنی دیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے
شور_قلقل یہ کیوں ہے دختر_رز کیا کسی پارسا سے لڑتی ہے
نہیں مژگاں کی دو صفیں گویا اک بلا اک بلا سے لڑتی ہے
نگۂ_ناز اس کی عاشق سے چھوٹ کس کس ادا سے لڑتی ہے
تیرے بیمار کے سر_بالیں موت کیا کیا شفا سے لڑتی ہے
زال_دنیا نے صلح کی کس دن یہ لڑاکا سدا سے لڑتی ہے
واہ کیا کیا طبیعت اپنی بھی عشق میں ابتدا سے لڑتی ہے
دیکھ اس چشم_مست کی شوخی جب کسی پارسا سے لڑتی ہے
تیری شمشیر_خوں کے چھینٹوں سے چھینٹے آب_بقا سے لڑتی ہے
سچ ہے الحرب خدعۃ اے ذوقؔ نگہ اس کی دغا سے لڑتی ہے