Ishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jaana
19th Century Mirza Ghalib Urduعشرت_قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
تجھ سے قسمت میں مری صورت_قفل_ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
دل ہوا کشمکش_چارۂ_زحمت میں تمام مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ اس قدر دشمن_ارباب_وفا ہو جانا
ضعف سے گریہ مبدل بہ_دم_سرد ہوا باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
دل سے مٹنا تری انگشت_حنائی کا خیال ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
ہے مجھے ابر_بہاری کا برس کر کھلنا روتے روتے غم_فرقت میں فنا ہو جانا
گر نہیں نکہت_گل کو ترے کوچے کی ہوس کیوں ہے گرد_رہ_جولان_صبا ہو جانا
بخشے ہے جلوۂ_گل ذوق_تماشا غالبؔ چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز_ہوائے_صیقل دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا