Jaada-e-rah khur ko waqt-e-shaam hai taar-e-shuaa
19th Century Mirza Ghalib Urduجادۂ_رہ خور کو وقت_شام ہے تار_شعاع چرخ وا کرتا ہے ماہ_نو سے آغوش_وداع
شمع سے ہے بزم_انگشت_تحیر در دہن شعلۂ_آواز_خوباں پر بہ_ہنگام_سماع
جوں پر_طاؤس جوہر تختہ مشق_رنگ ہے بسکہ ہے وہ قبلۂ_آئینہ محو_اختراع
رنجش_حیرت_سرشتاں سینہ_صافی پیشکش جوہر_آئینہ ہے یاں گرد_میدان_نزاع
چار سوئے_دہر میں بازار_غفلت گرم ہے عقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال_انتفاع
آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد_دل کے آشنا ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب_استماع