Ishq taasir se na-umeed nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduعشق تاثیر سے نومید نہیں جاں_سپاری شجر_بید نہیں
سلطنت دست_بدست آئی ہے جام_مے خاتم_جمشید نہیں
ہے تجلی تری سامان_وجود ذرہ بے_پرتو_خورشید نہیں
راز_معشوق نہ رسوا ہو جائے ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
گردش_رنگ_طرب سے ڈر ہے غم_محرومئ_جاوید نہیں
کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ہم کو جینے کی بھی امید نہیں