Ishq mujh ko nahin vehshat hi sahi
19th Century Mirza Ghalib Urduعشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی میری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلق ہم سے کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
عمر ہرچند کہ ہے برق_خرام دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
ہم کوئی ترک_وفا کرتے ہیں نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
کچھ تو دے اے فلک_ناانصاف آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں_گے بے_نیازی تری عادت ہی سہی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی