Is bazm mein mujhe nahin banti haya kiye
19th Century Mirza Ghalib Urduاس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
دل ہی تو ہے سیاست_درباں سے ڈر گیا میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن_مے مدت ہوئی ہے دعوت آب_و_ہوا کیے
بے_صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر_خضر حضرت بھی کل کہیں_گے کہ ہم کیا کیا کیے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج_ہائے_گراں_مایہ کیا کیے
کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے_گا جواب کیا مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے