Gulshan mein bandobast ba-rang-e-digar hai aaj
19th Century Mirza Ghalib Urduگلشن میں بندوبست بہ_رنگ_دگر ہے آج قمری کا طوق حلقۂ_بیرون_در ہے آج
آتا ہے ایک پارۂ_دل ہر فغاں کے ساتھ تار_نفس کمند_شکار_اثر ہے آج
اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل سیلاب_گریہ درپئے_دیوار_و_در ہے آج
معزولیٔ_تپش ہوئی افراط_انتظار چشم_کشادہ حلقۂ_بیرون_در ہے آج
حیرت_فروش_صد_نگرانی ہے اضطرار سر_رشتہ چاک_جیب کا تار_نظر ہے آج
ہوں داغ_نیم_رنگیٔ_شام_وصال_یار نور_چراغ_بزم سے جوش_سحر ہے آج
کرتی ہے عاجزیٔ_سفر سوختن تمام پیراہن_خسک میں غبار_شرر ہے آج
تا_صبح ہے بہ_منزل_مقصد رسیدنی دود_چراغ_خانہ غبار_سفر ہے آج
دور_اوفتادۂ_چمن_فکر ہے اسدؔ مرغ_خیال بلبل_بے_بال_و_پر ہے آج