Gulshan ko teri sohbat az-bas-keh khush aayi hai
19th Century Mirza Ghalib Urduگلشن کو تری صحبت از_بس_کہ خوش آئی ہے ہر غنچے کا گل ہونا آغوش_کشائی ہے
واں کنگر_استغنا ہر_دم ہے بلندی پر یاں نالے کو اور الٹا دعواۓ_رسائی ہے
از_بس_کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے جو داغ نظر آیا اک چشم_نمائی ہے