Gila hai shauq ko dil mein bhi tangi-e-ja ka
19th Century Mirza Ghalib Urduگلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ_جا کا گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ_مکتوب مگر ستم_زدہ ہوں ذوق_خامہ_فرسا کا
حنائے_پائے_خزاں ہے بہار اگر ہے یہی دوام_کلفت_خاطر ہے عیش دنیا کا
غم_فراق میں تکلیف_سیر_باغ نہ دو مجھے دماغ نہیں خندہ_ہائے_بے_جا کا
ہنوز محرمی_حسن کو ترستا ہوں کرے ہے ہر_بن_مو کام چشم_بینا کا
دل اس کو پہلے ہی ناز_و_ادا سے دے بیٹھے ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
نہ کہہ کہ گریہ بہ_مقدار_حسرت_دل ہے مری نگاہ میں ہے جمع_و_خرچ دریا کا
فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ جفا میں اس کی ہے انداز کار_فرما کا
مرا شمول ہر اک دل کے پیچ_و_تاب میں ہے میں مدعا ہوں تپش_نامۂ_تمنا کا
ملی نہ وسعت_جولان یک جنوں ہم کو عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا