Ghuncha-e-naashagufta ko door se mat dikha ke yoon
19th Century Mirza Ghalib Urduغنچۂ_ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
پرسش_طرز_دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
میں نے کہا کہ بزم_ناز چاہیے غیر سے تہی سن کے ستم_ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح دیکھ کے میری بے_خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
کب مجھے کوئے_یار میں رہنے کی وضع یاد تھی آئنہ_دار بن گئی حیرت_نقش_پا کہ یوں
گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال موج محیط_آب میں مارے ہے دست_و_پا کہ یوں
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک_فارسی گفتۂ_غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں