Haasil se haath dho baith ae aarzu-khiraami
19th Century Mirza Ghalib Urduحاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو_خرامی دل جوش_گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دے میں بھی جلے_ہوؤں میں ہوں داغ_نا_تمامی
کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے_وفائی سر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک_نامی
صد_رنگ_گل کترنا در_پردہ قتل کرنا تیغ_ادا نہیں ہے پابند_بے_نیامی
طرف_سخن نہیں ہے مجھ سے خدا_نہ_کردہ ہے نامہ_بر کو اس سے دعوائے_ہم_کلامی
طاقت فسانۂ_باد اندیشہ شعلہ_ایجاد اے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی
ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکن ہے شرح_شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت دریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ_کامی